لو آپ اپنے دام میں صیّاد آگیا

یوں توکراچی میں پان اورگھٹگا منہ میں دبائے لوگ سڑکوں پر عام دکھائی دیتے ہیں. اوربرسوں سے قایم یہ  رشتہ بحیثیت تجریدی آرٹ یا مشرقی گریفیٹی دیواروں پراکثر ہی دکھائی دیتا ہے مگر بعض اوقات کچھ ایسے واقعات بھی رونما ہو جاتے ہیں جوکہیں تو لبوں پر مسکراہٹ بکھیر دیتے ہیں تو کہیں کسی کے کپڑوں کی واٹ ہی لگا ڈالتیں ہیں. ایسا ہی ایک واقعہ کے شاہد میرے دوست مشاہد ہیں جو اپنے الفاظ میں اس واقعہ کی منظر کشی کچھ یوں کرتے ہیں
سڑک بھی کراچی کی ہے اور ایک بابا جی  بھی جن کا تعلّق بھی کراچی سے ہی ہے. وقت ہے دوپہر کا اور بابا جی اپنی مگن میں موٹر سائیکل پر سوار اپنی منزل کی جانب رواں ہیں. حسب معمول منہ میں پیک بھری ہے اور موقع کی تلاش ہے کے پھر سے کسی کونے کو لعل ؤ گلزار کریں. اسی لمحے ایک تیز رفتار کرولا بابا جی کی پھٹپھٹی کو زور دار ٹکر مار تی ہے اور بابا جی ہوا میں دکھائی دیتے ہیں. دیکھتے ہی دیکھتے وہ روڈ پر آگرتے ہیں اور منہ میں بھری پان کی پچکاری ہیلمٹ میں ہی نکل جاتی ہے. شور اٹھتا ہے کہ بابا جی کا سر پھٹ گیا اور خون بھ رہا ہے مگر  بابا جی پشیمان مسکراہٹ کے ساتھ جب ہیلمٹ اتارتے ہیں تو  پاس کھڑی عوام کی حیرانی ؤ پریشانی بلند قہقوں میں تبدیل ہو جاتی ہے. اسی حوالے سے مومن خان مومن کا  ایک شعر

محشر میں پاس کیوں دمِ فریاد آگیا
رحم اس نے کب کیا تھا کہ اب یاد آگیا
الجھا ہے پاؤں یار کا زلفِ دراز میں
لو آپ اپنے دام میں صیّاد آگیا

Posted: May 1st, 2010
Categories: اردو(urdu)
Tags:
Comments: No Comments.












IMPORTANT! To be able to proceed, you need to solve the following simple math (so we know that you are a human) :-)

What is 7 + 15 ?
Please leave these two fields as-is: